احمد آباد 25/فروری(ایس او نیوز) ٹائمز آف انڈیا میں ایک چونکا دینے والی خبر شائع ہوئی ہے جس کے مطابق ریاست گجرات کی احمد آباد پولس نے اُس مرنے والے نوجوان کے خلاف معاملہ درج کیا ہے جو نیشنل ہائی وے پر گائے کو ٹکر مارنے سے ہلاک ہوگیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق کلول نامی مقام پر رہنے والا اور کار کی ڈیلرشپ میں ملازمت کرنے والے 28 سالہ سنجے پٹیل ایس جی روڈ پر بائک پر سوار تھا کہ اچانک دو گائیں نیشنل ہائی وے پر آگئی، جس سے ٹکرانے کے بعد وہ نیچے گرپڑا اور اس کے سر کو شدید چوٹ لگنے سے وہ ہلاک ہوگیا، مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ پولس نے گائیوں کے مالک کے خلاف معاملہ درج کرنے کے بجائے بائک سوار سنجے پٹیل پر ہی دفعہ 279 IPC کے تحت لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے کا معاملہ درج کرلیا ۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پولس نے سنجے پٹیل کے والد مہیش کو سمن جاری کرتے ہوئے اے ڈیویژن ٹریفک پولس میں بلاتے ہوئے اپنے ہی بیٹے کے خلاف FIR پر دستخط کرنے کے لئے کہا، اخبار نے مہیش پٹیل کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ پولس نے مہیش سےکہا کہ وہ اپنے بیٹے کے خلاف ایف آئی آر پر دستخط کرے جس پر لکھا تھا کہ ان کا بیٹا ہی اس حادثہ کا ذمہ دار تھا کیونکہ وہ کافی تیزی کے ساتھ بائک چلارہا تھا۔
مہیش نے بتایا ہے کہ آوارہ گائے اچانک نیشنل ہائی وے پر آگئی تھی، جس کی وجہ سے اس کی بائک آوارہ گائے سےٹکرا گئی تھی، مگر پولس نے روڈ پر چھوڑی جانے والی گائیوں کے مالک کے خلاف معاملہ درج کرنے کے بجائے اس کے بیٹے کے خلاف ہی معاملہ درج کیا ہے، حالانکہ اچانک گائے سامنے آنے کے بعد کسی بھی بائک سوار کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملتا ۔
اخبار نے ڈپٹی کمشنر آف پولس تیجس پٹیل کا بیان بھی درج کیا ہے جو بتارہے ہیں کہ اس طرح کے حادثات ہونے پر جانوروں کے مالک کا پتہ لگانا آسان نہیں ہے۔
جوائنٹ کمشنر آف پولس جے آر متھالیا نے اس واقعے کو بیڈ لک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہم اس معاملے کو دیکھیں گے اور ملزم کے خلاف مناسب کاروائی کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال گجرات ہائی کورٹ نے شہر میں آوارہ گھومنے والے جانوروں کے مالکوں کے خلاف کاروائی نہ کرنے پر احمد آباد میونسپل کمشنر اور سٹی پولس کمشنر کی سخت کھینچائی کی تھی، جس کے بعد گذشتہ سال دو مویشیوں کے مالکان کے خلاف عوامی راستوں پر جانوروں کو آوارہ چھوڑنے پر معاملہ درج کیا گیا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ مہلوک سنجے پٹیل کی ایک سال سات ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی۔ اس کی بیوہ انیتا مہسانا میں بی کام کی طالبہ ہے۔